“ایک بُڑھیا اور دو مٹکے “

کہتے ہیں کہ ایک بُڑھیا کے گھر پانی کے لیے دو مٹکے تھے جنہیں وہ روزانہ ایک لکڑی پرباندھ کر اپنے

 کندھے پر رکھتی اورگھر سے دور نہر سے پانی بھر کر لاتی ۔ اِ ن مٹکوں میں سے ایک تو بلکل ٹھیک تھا جبکہ

 دوسرا کچھ ٹوٹا ہوا تھا۔ہر بار جب بھی بُڑھیا پانی بھر کر لاتی تو ٹوٹے ہوئے مٹکے کا پانی آدھے سےزیادہ

 راستے میں گِر جاتاجبکہ ثابت مٹکا اپنی کارکردگی پر مطمئن اور خوش تھا ۔دو سالوں تک ایسا ہوتا رہا آخر

ایک دن مسلسل دو سالوں کی ناکامی اور تلخی لیے ٹوٹے ہوئے مٹکے نے بُڑھیا سے کہا میں اپنی معذوری

کی وجہ سے بہت شرمندہ ہوں میری وجہ سے تم آدھے سے زیادہ پانی راستے میں گِرا آتی ہو اور اتنی

 مشقت بھی کرتی ہو ۔مٹکے کی بات سُن کر بُڑھیا ہنسی اور جواب دیا کیا تُجھے نہیں پتا کہ تیرا گِرا ہوا پانی

میرے لیےہریالی کا باعث بنتا ہے جس طرف تیرا پانی گِرتا ہے اُس طرف میں نے پھولوں کے بیج ڈال

 دئیے تھے جن سے خوش نُما پھول اُگ آئے جو سارا راستہ میرے لیےمسرت کا باعث بنتے  ہیں ۔

اِس لیے ہمیں بھی چاہئے کہ ہم ایک دوسرے کو خامیوں سمیت قبول کریں۔ معذور بھی معاشرے کا

 حصہ ہوتے ہیں اور اپنی معذوری کے ساتھ معاشرے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں ۔

شیئر کریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •