اساتذہ کے عالمی دن کے موقع پر خصوصی تحریر

استاد کی عظمت میں ،عظمت ہے زمانے کی
تعظیم ملے اس کو ،آداب سکھانے کی
دنیا میں جو رہنا ہے تعلیم تو لینی ہے
ہر علم ضروری ہے یہ بات خدا نے کی

کسی بھی معاشرے میں معلم کا کردار طرزِ معاشرت پر منحصر ہوتا ہے۔ بہت سے معاشروں میں معلم یا معلمہ کو صرف تعلیمی مضامین پڑھانے کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے تاہم ایک معلم کے فرائض میں اور بھی بہت سے چیزیں شامل ہیں جیسا کہ ہدایات، پیشہ ورانہ تربیت، سماجی بہبود کا شعور اور زندگی میں کامیابی کے لیے ضروری دیگر ضروری صلاحیتیں۔ یہ پیشہ اپنی صلاحیتوں کے پیشِ نظر نہایت مقدس اور باعزت سمجھا جاتا ہے کیونکہ ایک معلم بچوں کی اچھی تربیت اور تعلیم دے اپنی قوم کے مستقبل کی تعمیر کر رہا ہوتا ہے۔
انسان دنیامیں کبھی بھی تنہا وقت نہیں گزار سکتا‘وہ کئی رشتوں ناطوں کے ساتھ جڑا رہتا ہے۔ان میں سے کچھ رشتے اور تعلق خون کے ہوتے ہیں جبکہ بہت سے رشتے اور تعلق روحانی‘ اخلاقی اور معاشرتی طور پر بنتے ہیں۔ ان میں ایک رشتہ استاد کا بھی ہے۔
اساتذہ کو معاشرے میں روحانی والدین کا درجہ حاصل ہے اسلام میں استاد کا رتبہ والدین کے رتبے کے برابر قرار دیا گیا ہے کیونکہ دنیا میں والدین کے بعد اگر کسی پر بچے کی تربیت کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے تو وہ ہمارے استاد ہیں کیونکہ استاد ہی ہیں جو دنیا میں جینا اور رہنا سکھاتے ہیں اور کتابوں کاعلم سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔ اس لحاظ سے استاد واجب الاحترام شخصیت ہیں۔
تعلیم و تربیت کا عمل ایک بڑا ہی مقدس ، اہمیت کا حامل اور مشکل عمل ہے ۔ اس کو نتیجہ خیز اور صحیح طریقہ پر انجام دینے اور اس میں کامیاب ہونے کے لئے معلم کے اندر چند اوصاف کا پایاجانا نہایت ضروری ہے ۔
ایک کامیاب معلم كے لئے سب سے پہلا اور ضروری وصف یہ ہے کہ وہ اپنے تدریس و تعلیم کے عمل میں مخلص ہو، اور اس کا اس عمل سے مقصد حصول رضائے الٰہی،احیاء علوم کتاب وسنت، شریعت اسلامیہ کی نشرواشاعت،اصلاح معاشرہ،اور لوگوں کو شرک وکفر اور بدعات وخرافات سے نکال کر کتاب وسنت کی شاہراہ اور توحید وہدایت کے صراط مستقیم پر لگانا ہو۔
اس کا مقصد کوئی دنیوی غرض، حصول مال ودولت، جاہ و منصب، معاصرین پر فوقیت ، شہرت، طلبہ اور عوام کی بھیڑ جمع کرنا، دوسرے علماء کو شکست دے کر انہیں خاموش کر نا وغیرہ نہ ہو ۔
با ادب با نصیب ، بے ادب بے نصیب ہوتا ہے۔ ۔
قانونِ ارتقاء کی رُو سے باعلم قوموں کو حق حاصل ہے کہ کم علم قوموں پہ حکمرانی کریں۔ اس بات کا زمانہ گواہ ہے کہ ترقی یافتہ قوموں نے ہی اس زمین پر حکمرانی کی ہے۔ اور ان پڑھ قومیں ان کے ماتحت رہی ہیں۔ آج اگر ہم قعرِ مذلت میں گرے ہوئے ہیں تو اس کی وجہ یہی ہے کہ ہم ادب کرنا بھول گئے ہیں۔
؎اب تو شاگردوں کا استاد ادب کرتے ہیں
سنتے ہیں ہم کبھی شاگرد ادب کرتے تھے

اس زمین پر رہتے ہوئے ، سچا اور سْچا لطف کشید کرنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ ہم اپنی انسانی خصلت یعنی ادب اور اخلاق کا دامن کبھی نہ چھوڑیں، پھر چاہے وہ تخلیق کا حسن ہو یا صنعت کی خوبی، تصویر کی دلکشی یا جھرنوں کا ترنم ، آبشار کی موسیقی یا بہاروں کی شمیم ِ جانفزا۔ کچھ بھی ہووہ خالقِ کائنات کی طرف سے ہمارے لیے تحفہء بہشت ہے۔
ہمیں اپنے نصیب سے کبھی شکوہ نہ ہو جو ہم پاسِ ادب رکھتے ہوں، ہمیں کبھی مقدر سے گلہ نہ ہو جو ہم خصلتاً باادب ہوں۔ ہمیں کبھی کسی ناکامی کا منہ نہ دیکھنا پڑے جو ہم نے اپنے اساتذہ کے سامنے زانوئے تلمذ طے کیے رکھا ہو۔ ہمیں کبھی رسوائی کا سامنا نہ کرنا پڑے جو ہم اپنے معلم کے روبرو نگاہیں جھکانے کے عادی ہوں۔
حضرت علی کرّم اللہ وجہہ کا قولِ مبارک ہے:
’’ جس نے مجھے ایک لفظ سکھایا وہ میرا استاد ہواــ‘‘۔
یہ ہے مقامِ ادب اور اس سے ملتا ہے سچا نصیب، سچی دولت جو کبھی ختم نہیں ہوتی۔

شیئر کریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •